Toprated

Customer's Reviews

Ali Raza

Great collection of academic and fiction books. Prices are reasonable, and the packaging was excellent. Will definitely shop again!

Ayesha Khan

This is the best online bookstore in Pakistan! The delivery was fast, and I found books that I couldn’t get anywhere else. Highly recommended!

Hamza Ahmed

I love how they stock both local and international authors. My order arrived on time, and the quality was perfect.

Bestseller

Skip to product information
1 of 1

Bhagwad Gita (Readings Classics) (Urdu)

Regular price Rs.599.00 PKR
Sale price Rs.599.00 PKR Regular price
Sale Sold out
  • Vendor:

    The Book House

Description

Author: Shan-ul-haq Haqui (translator)

Pages: 188

سنسکرت میں لکھا ہندومت کا مقدس الہامی صحیفہ بھگود گیتا یا شریمد بھگود گیتا (الوہی نغمہ ) اٹھارہ ابواب اور سات سو شلوک پر مشتمل کرشن جی اور ارجن کا طویل مکالمہ ہے۔ یہ کتاب دراصل مہا بھارت کے ابواب 23 تا 40 کا حصہ ہے جو الگ سے شائع ہوتی ہے۔ مہا بھارت کی مشہور جنگ میں پانڈوؤں کے ہاتھوں ظالم کو روؤں کو شکست فاش ہوتی ہے۔ دنیا کی ہر معروف زبان میں گیتا کے تراجم ہو چکے ہیں اور اس کا متن اور پیغام دنیا کے ہر کونے میں پہنچ چکا ہے۔ گیتا کے اردو تراجم کی تعداد بھی پچاس سے زائد ہے جن میں نظیر اکبر آبادی ، مولانا حسرت موہانی، یگانہ چنگیزی اور خواجہ دل محمد وغیرہ کے تراجم معروف ہیں۔ بھگود گیتا کا زیر نظر منظوم اردو تر جمعہ جناب شان الحق حقی نے اصل سنسکرت متن کے ایک ایک لفظ کو سامنے رکھ کر پانچ انگریزی ترجموں کی مدد سے کیا ہے۔ اس کاوش کے لیے اٹھائی گئی کھکھیڑ کا اجمالی تذکرہ اُن کے ابتدائیے عرض مترجم میں موجود ہے۔ اس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ ترجمہ مختلف اہم تراجم سے آزادانہ استفادے اور متن کی تفہیم، تعبیر و تفسیر و تشریح کا نچوڑ ہے اور اُن میں پائے جانے والے اسقام کی نشان دہی اور صحیح بھی کرتا ہے۔ چنانچہ جناب حقی کا کیا ہوا بھگود گیتا کا منظوم اردو ترجمہ اب تک کا سب سے اچھا اور تنقیدی ایڈیشن (Critical Edition) ہے۔ کسی بھی کلاسیکل متن کے مثالی اردو ترجمے کے لیے یہ ترجمہ ایک قابل فخر کام ہے۔ شعر کو درست پڑھنا موزونی طبع پر منحصر ہے نہ کہ علم عروض کے فہم پر۔ اردو کے شاعروں محققین ، طلبہ اور اساتذہ کو بھگود گیتا کا منظوم اردو ترجمہ اس لیے بھی پڑھنا چاہیے کہ اس میں دیگر ذولسانی ترجمہ جاتی خوبیوں کے ساتھ ساتھ انھیں بطور خاص جناب حقی کے شعری مزاج ، آرٹ اور کرافٹ سے آشنائی ہوگی ۔ ۔