Toprated

Customer's Reviews

Ali Raza

Great collection of academic and fiction books. Prices are reasonable, and the packaging was excellent. Will definitely shop again!

Ayesha Khan

This is the best online bookstore in Pakistan! The delivery was fast, and I found books that I couldn’t get anywhere else. Highly recommended!

Hamza Ahmed

I love how they stock both local and international authors. My order arrived on time, and the quality was perfect.

Bestseller

Skip to product information
1 of 1

Istemaar Ki Nafsiyaat

Regular price Rs.999.00 PKR
Sale price Rs.999.00 PKR Regular price
Sale Sold out
  • Vendor:

    The Book House

Description

Author: Akhtar Ali Syed

Pages: 420

جنوبی ایشیا میں استعماریت کے معاشی تعلیمی ، آئینی ، تاریخی، اشترا کی سماجی ادبی تجزیے تو کیے گئے مگر نفسیاتی تجزیہ اختر علی سید کے حصے میں آیا ہے۔ جنوبی ایشیا اور خصوصا پاکستانی مسلمانوں کی خود راستی ( اور نرگسیت پسندی و جوہریت پسندی پر پنی نفسیات کیوں کر بنی ہے اور اس نفسیات نے عملی و علمی شدت پسندی کے کن کن مظاہر کو جنم دیا ہے؟ اس سوال کا تجزیہ، ان تحریروں میں ملتا ہے۔ اختر صاحب نے نفسیاتی تجزیے کے لیے مینونی، فرانز فین، فرائیڈ ، امریخ فرام اور اپنے استاد اختر احسن کے نظریات سے استفادہ کیا ہے۔ وہ اپنے نفسیاتی تجزیوں میں ساخت، پیٹرن اور رجحان کی دریافت به طور خاص کرتے ہیں۔ وہ معاصر پاکستانی سماج میں ہونے والے غیر معمولی واقعات : خودکش دھماکے، توہین کے الزام پر آدمی کو جلا دینا، اقلیتوں کے گھروں کو نذر آتش کر ڈالنا، ریپ، فرقہ وارانہ فسادات، سیاسی ولسانی منافرت، وغیرہ کو واقعہ نہیں، رجحان کہتے ہیں۔ نیز بہ ظاہر متلف و متفرق سیاسی، مذہبی، ثقافتی واقعات کے عقب میں ایک ہی پیٹرن کو دریافت کرتے ہیں، جس کا کوئی نہ کوئی تعلق استعماریت اور اس کے پیدا کردہ مذہبی ذہن سے ہے۔ جس طرح ، نفسیاتی عارضے کا سبب سمجھے بغیر محض علامات پر توجہ دینے سے علاج نہیں ہوتا ، اسی طرح سماج کے رجحان کو سمجھے بغیر، سماج کے عوارض کا علاج نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کام عوامی دانشور کرتے ہیں۔ پاکستان کا بحران ، عوامی دانشوری کے قحط میں جڑیں رکھتا ہے۔ اختر صاحب، اس لیے اس پہلو کو خاص طور پر ما ایڈورڈ سعید کے دانشور کے تصور کی تفصیل سے وضاحت اہمیت دیتے ہیں۔ وہ گرا وامی دانش وری کے تصور کے تحت تشکیل دیتے بھی محسوس ہوتے کرتے ہیں۔ وہ اپنی تحریروا ہیں۔ ان تحریروں میں پاکستانی سماج کی تصویر تاریک گنجلک اور کٹی پھٹی ، بھیا تک ہے، مگر اصل ہے۔ وہ اس سماج کے تاریک چہرے ہی کو نہیں کے شیڈو کو بھی سامنے لائے ہیں۔ نفسیاتی تجزیہ ہمیں اپنے ہی رو بر ولایا کرتا ہے، اور اپنی حقیقت کا سامنا کرنے کی جرات کا مطالبہ کرتا ہے۔ مجھے اردو میں دانشوارنہ تحریروں پر بنی ایک اہم کتاب کے استقبال کی دلی خوشی ہورہی ہے