Toprated

Customer's Reviews

Ali Raza

Great collection of academic and fiction books. Prices are reasonable, and the packaging was excellent. Will definitely shop again!

Ayesha Khan

This is the best online bookstore in Pakistan! The delivery was fast, and I found books that I couldn’t get anywhere else. Highly recommended!

Hamza Ahmed

I love how they stock both local and international authors. My order arrived on time, and the quality was perfect.

Bestseller

  • Dilli Tha Jis Ka Naam

    Regular price Rs.900.00 PKR
    Sale price Rs.900.00 PKR Regular price
    Sale Sold out
  • Ayub Bhutto And Zia

    Regular price Rs.1,400.00 PKR
    Sale price Rs.1,400.00 PKR Regular price
    Sale Sold out
  • Tuzk-E-Babri (Urdu)

    Regular price Rs.1,600.00 PKR
    Sale price Rs.1,600.00 PKR Regular price
    Sale Sold out
Skip to product information
1 of 1

Jalta Raha Chiragh Yaqeen o Gumaan Ka - Ali Arshad Rana

Regular price Rs.1,500.00 PKR
Sale price Rs.1,500.00 PKR Regular price
Sale Sold out
  • Vendor:

    The Book House

Description

Author: Ali Arshad Rana

Pages: 208 + XIX

عطا ءالحق قاسمی

یہ کہانی محض ایک کہانی ہی نہیں بلکہ یہ اپنے اندر بھر پور مقصدیت بھی لئے ہوئے ہے۔ میں اس کے لیے ذاتی طور پر مصنف کا ممنون ہوں کیونکہ ان دنوں ہمارا افسانہ مجموعی طور پر محض ” افسانہ” بن کر رہ گیا ہے۔ علی ارشد رانا نےاس میں سے محبت اور دردمندی کی ”نہر سویز” نکال کر دکھا دی ہے۔

 

امجد اسلام امجد

مير ے خيال ميں اس ادق اور نازک مسئلے پر ايسی بھرپور تحريرکے ليے علی ارشد رانا مبارکباد کے مستحق ہيں اوريقيناً يہ ايک اچھی اور لائق مطالعہ کتاب ثا بت ہو گی۔

 

اصغر ندیم سید

یہ ناول والدین اور بچوں کے لئے بے حد ضروری دستاویز ہے۔ چاہے کوئی خاندان اس تجربے سے گزرا ہو یا نہ گزرا ہوپھر بھی اس کے مطالعے سے جو بنیادی انسانی اور اخلاقی قدریں ہیں ان کی تفہیم میں مدد ملتی ہے۔

 

مجیب الرحمان شامی

میں نے ایک ہی نشست میں اسے پڑھ ڈالا کہ اس میں ایک رومانی ناول کی چاشنی اور ایک جاسوسی کہانی کا تجسس اور سنسنی موجود ہے ۔علی ارشد نے ہمیں دکھا دیا ہے کہ محبت اور حکمت سے ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

 

خليل الرحمان قمر

برسوں بعد آج علی ارشد رانا کو پڑھا تو ایک بار پھر لگا جیسے سول سروس کے لکھاریوں کو سچ کی کڑواہٹ سے گھٹی دی جاتی ہے۔ یہ ناول ایک پاپڑ بیلتے ہوئے باپ کی سرگزشت ہی نہیں ایک ایسی ولولہ انگیز تحریک بھی ہے جو ایسے بچوں کے والدین کو اس جہد مسلسل میں تھکنے اورٹوٹنے نہیں دے گی۔

 

جاويد چودھری

اگر ميرا بس چلے تو يقين کريں ميں اس کتاب کو اساتذہ کے سليبس ميں شامل کرادوں اور يہ قانون بھی پاس کرادوں کہ پاکستان ميں اس وقت تک کسی استاد کو پڑھانےکی اجازت نہيں ملے گی جب تک وہ يہ ناول نہيں پڑھ لے گا۔

 

علی اکبر ناطق

اِس ناول کو پڑھنے کے بعد بذاتِ خود مجھ پر ایک رقت طاری ہو گئی اور دل نے بآواز بلند پکارا کہ یہ تو میری بھی کہانی ہے۔ میرے خیال میں علی ارشد رانا نے یہ ناول لکھ کر ہمارے معاشرے پر ایک احسان کیا ہے اور ہمیں یہ احسان اِس ناول کو پڑھ کر اپنے معاشرے کی از سرِ نو تربیت کر کے اتارنا ہے ۔