Toprated

Customer's Reviews

Ali Raza

Great collection of academic and fiction books. Prices are reasonable, and the packaging was excellent. Will definitely shop again!

Ayesha Khan

This is the best online bookstore in Pakistan! The delivery was fast, and I found books that I couldn’t get anywhere else. Highly recommended!

Hamza Ahmed

I love how they stock both local and international authors. My order arrived on time, and the quality was perfect.

Bestseller

  • Qissay Lahore Kay

    Regular price Rs.990.00 PKR
    Sale price Rs.990.00 PKR Regular price
    Sale Sold out
  • Kitabain Apnay Aaba Ki

    Regular price Rs.2,550.00 PKR
    Sale price Rs.2,550.00 PKR Regular price Rs.2,800.00 PKR
    Sale Sold out
  • Bostaan-e-Saadi

    Regular price Rs.895.00 PKR
    Sale price Rs.895.00 PKR Regular price
    Sale Sold out
  • Tareekh Baghawat Hind 1857

    Regular price Rs.800.00 PKR
    Sale price Rs.800.00 PKR Regular price
    Sale Sold out
  • Tuzk-E-Jahangiri (Urdu)

    Regular price Rs.1,400.00 PKR
    Sale price Rs.1,400.00 PKR Regular price
    Sale Sold out
  • Jinnah Speeches

    Regular price Rs.1,050.00 PKR
    Sale price Rs.1,050.00 PKR Regular price Rs.1,200.00 PKR
    Sale Sold out
Skip to product information
1 of 1

Mee Sozam - Humaira Ashfaq - می سوزم - حمیرا اشفاق

Regular price Rs.700.00 PKR
Sale price Rs.700.00 PKR Regular price
Sale Sold out
  • Vendor:

    The Book House

Description

Author: Humaira Ashfaq - حمیرا اشفاق

Pages: 208

حمیرااشفاق ایک فرد نہیں،انجمن ہے: دانشور، محقق ،نقاد،افسانہ نگار اور اب ناول نگار؛ اس کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ہے جسے عموماً نظرانداز کیا جاتا ہے اور وہ ہے اس کا ایک استاد ہونا۔عموماًدیکھا گیا ہے کہ جوشخص اتنا باکمال ہو وہ اپنی تمام ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا لیکن حمیرا کے ساتھ ایسا نہیں ہے؛ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے ہر صلاحیت دوسری سے ایسے جدا کر کے عطا کی ہے کہ کسی میں کہیں کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی جس کی واضح مثال اس کا ناول’’می سوزم‘‘ ہے۔ اس ناول کا موضوع متقاضی تھا کہ اس پر تحقیق کر کے ایک تنقیدی یا درسی نوعیت کا مضمون لکھا جائے لیکن حمیرا کی تخلیقی جبلت کو یہ گوارانہیں تھا اور اس نے ایک ہزار سال پرانی تہذیب کو موضوع بنا کر ایسی شخصیت کوفکشن کے قالب میں ڈھالا کہ اسے یقیناً اردوادب کی صف اول کی تخلیقات میں شمار کیے جاسکتا ہے جوکہیں کہیں’بہاؤ‘ اور’’انواسی‘ کا ہم پلہ اورکہیں ثقافتی اور تہذیبی پہلوؤں پران سے آگے کی بات کرتا ہے۔

حمیرا کا بیان دلکش،انداز جداگانہ، خیال مدلل اور لہجہ دھیما اور اس کی نرماہٹ میں کہی گئی بات میں کاٹ ہوتی ہے جس کی ضرب کی شدت قاری بعد میں محسوس کرتا ہے اور اسی نامحسوس طریقے سے قاری کوا پنا ہم سفر بنانا ہی حمیرا کے فن کی معراج ہے۔

خالد فتح محمد

—————————————————————————

!می سوزم

حمیرااشفاق کا پہلا ناول ہے ۔ یہ اس سوختہ اختر شاعرہ کی کہانی ہے جو پہلے رابعہ بلخی اور رابعہ خضداری کے نام سے مشہور ہوئی ۔ایک ہزار سال پہلے پیدا ہونے والی فارسی اور عر بی کی شاعرہ بلوچستان کی وہ بیٹی تھی، جسے سب سے پہلے کاروکاری کا شکار بنناپڑا۔معروف فارسی شاعر رؔدوکی کی ہم عصر شاعرہ کاتعلق بلوچستان کے مردم خیز خطے خضدار سے تھا۔ شعر وادب کی رسیا رابعہ شاعرہ کے علاوہ ایک مصورہ بھی تھی ۔ حمیرا اشفاق نے اس بدقسمت شہزادی کی زندگی پرقلم اٹھایا ہے جسے بلوچستان کے قبائلی رسم ورواج کا اوّلیں لقمہ بننا پڑا۔

یہ تاریخی ناول تاریخ بھی ہے اور افسانہ بھی۔کہانی کوکرداروں کی زبانی آگے بڑھایا گیا ہے جو اردو افسانوی ادب کی نئی تکنیک ہے ۔مصنفہ نے کمال چابکدستی سے تاریخ، افسانے کو باہم پیوست کیا ہے کہ پورے ناول میں بلوچستان جیتا جاگتا نظر آ تا ہے ۔ ناول کا تعلق تصوف اور نسائیت کی اس تحریک سے بھی جڑ تا ہے جورابعہ بصری سے شروع ہوکر کشمیرکی للٰہ عارفہ سے ہوتا ہواشہرادی زیب النسامخفی اور پنجاب کی پیرو پریمن تک آ تا ہے، جومصنفہ کا خاص موضوع ہے۔

اگر حمیرا اسی افسانوی رنگ میں ان تمام باغی شہزادیوں کی زندگی کو اپنا موضوع بناسکیں تو اردوادب کا ایک انوکھا واقعہ ہوگا۔

احمد سلیم