{"product_id":"mee-sozam-humaira-ashfaq-می-سوزم-حمیرا-اشفاق","title":"Mee Sozam - Humaira Ashfaq - می سوزم - حمیرا اشفاق","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Humaira Ashfaq - حمیرا اشفاق\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e208\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eحمیرااشفاق ایک فرد نہیں،انجمن ہے: دانشور، محقق ،نقاد،افسانہ نگار اور اب ناول نگار؛ اس کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ہے جسے عموماً نظرانداز کیا جاتا ہے اور وہ ہے اس کا ایک استاد ہونا۔عموماًدیکھا گیا ہے کہ جوشخص اتنا باکمال ہو وہ اپنی تمام ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا لیکن حمیرا کے ساتھ ایسا نہیں ہے؛ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے ہر صلاحیت دوسری سے ایسے جدا کر کے عطا کی ہے کہ کسی میں کہیں کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی جس کی واضح مثال اس کا ناول’’می سوزم‘‘ ہے۔ اس ناول کا موضوع متقاضی تھا کہ اس پر تحقیق کر کے ایک تنقیدی یا درسی نوعیت کا مضمون لکھا جائے لیکن حمیرا کی تخلیقی جبلت کو یہ گوارانہیں تھا اور اس نے ایک ہزار سال پرانی تہذیب کو موضوع بنا کر ایسی شخصیت کوفکشن کے قالب میں ڈھالا کہ اسے یقیناً اردوادب کی صف اول کی تخلیقات میں شمار کیے جاسکتا ہے جوکہیں کہیں’بہاؤ‘ اور’’انواسی‘ کا ہم پلہ اورکہیں ثقافتی اور تہذیبی پہلوؤں پران سے آگے کی بات کرتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eحمیرا کا بیان دلکش،انداز جداگانہ، خیال مدلل اور لہجہ دھیما اور اس کی نرماہٹ میں کہی گئی بات میں کاٹ ہوتی ہے جس کی ضرب کی شدت قاری بعد میں محسوس کرتا ہے اور اسی نامحسوس طریقے سے قاری کوا پنا ہم سفر بنانا ہی حمیرا کے فن کی معراج ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eخالد فتح محمد\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv\u003e—————————————————————————\u003c\/div\u003e\n\u003cp\u003e!می سوزم\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eحمیرااشفاق کا پہلا ناول ہے ۔ یہ اس سوختہ اختر شاعرہ کی کہانی ہے جو پہلے رابعہ بلخی اور رابعہ خضداری کے نام سے مشہور ہوئی ۔ایک ہزار سال پہلے پیدا ہونے والی فارسی اور عر بی کی شاعرہ بلوچستان کی وہ بیٹی تھی، جسے سب سے پہلے کاروکاری کا شکار بنناپڑا۔معروف فارسی شاعر رؔدوکی کی ہم عصر شاعرہ کاتعلق بلوچستان کے مردم خیز خطے خضدار سے تھا۔ شعر وادب کی رسیا رابعہ شاعرہ کے علاوہ ایک مصورہ بھی تھی ۔ حمیرا اشفاق نے اس بدقسمت شہزادی کی زندگی پرقلم اٹھایا ہے جسے بلوچستان کے قبائلی رسم ورواج کا اوّلیں لقمہ بننا پڑا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eیہ تاریخی ناول تاریخ بھی ہے اور افسانہ بھی۔کہانی کوکرداروں کی زبانی آگے بڑھایا گیا ہے جو اردو افسانوی ادب کی نئی تکنیک ہے ۔مصنفہ نے کمال چابکدستی سے تاریخ، افسانے کو باہم پیوست کیا ہے کہ پورے ناول میں بلوچستان جیتا جاگتا نظر آ تا ہے ۔ ناول کا تعلق تصوف اور نسائیت کی اس تحریک سے بھی جڑ تا ہے جورابعہ بصری سے شروع ہوکر کشمیرکی للٰہ عارفہ سے ہوتا ہواشہرادی زیب النسامخفی اور پنجاب کی پیرو پریمن تک آ تا ہے، جومصنفہ کا خاص موضوع ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاگر حمیرا اسی افسانوی رنگ میں ان تمام باغی شہزادیوں کی زندگی کو اپنا موضوع بناسکیں تو اردوادب کا ایک انوکھا واقعہ ہوگا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاحمد سلیم\u003c\/p\u003e","brand":"The Book House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":62703909961809,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0691\/4536\/2513\/files\/MeeSozam-HumairaAshfaq.webp?v=1790087925","url":"https:\/\/thebookhouse.pk\/products\/mee-sozam-humaira-ashfaq-%d9%85%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%b2%d9%85-%d8%ad%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7-%d8%a7%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%82","provider":"The Book House","version":"1.0","type":"link"}