Toprated

Customer's Reviews

Ali Raza

Great collection of academic and fiction books. Prices are reasonable, and the packaging was excellent. Will definitely shop again!

Ayesha Khan

This is the best online bookstore in Pakistan! The delivery was fast, and I found books that I couldn’t get anywhere else. Highly recommended!

Hamza Ahmed

I love how they stock both local and international authors. My order arrived on time, and the quality was perfect.

Bestseller

  • Qafila Hijaz by Naseem Hijazi

    Regular price Rs.3,900.00 PKR
    Sale price Rs.3,900.00 PKR Regular price Rs.4,495.00 PKR
    Sale Sold out
  • Poras kay Hathi

    Regular price Rs.1,099.00 PKR
    Sale price Rs.1,099.00 PKR Regular price Rs.1,299.00 PKR
    Sale Sold out
  • Insaan Aur Devta

    Regular price Rs.1,699.00 PKR
    Sale price Rs.1,699.00 PKR Regular price Rs.1,899.00 PKR
    Sale Sold out
  • Aur Talwar Toot Gai

    Regular price Rs.1,899.00 PKR
    Sale price Rs.1,899.00 PKR Regular price Rs.2,299.00 PKR
    Sale Sold out
  • Khaak aur Khoon

    Regular price Rs.1,900.00 PKR
    Sale price Rs.1,900.00 PKR Regular price Rs.2,400.00 PKR
    Sale Sold out
  • Tarikh-I Punjab Ma' Halat Shahr Lahore

    Regular price Rs.1,340.00 PKR
    Sale price Rs.1,340.00 PKR Regular price Rs.1,600.00 PKR
    Sale Sold out
Skip to product information
1 of 1

Sair Kar Tu Bhi Ye Majmua Pareshani Ka - Nasir Abbas Nayyar

Regular price Rs.4,600.00 PKR
Sale price Rs.4,600.00 PKR Regular price Rs.5,200.00 PKR
Sale Sold out
  • Vendor:

    The Book House

Description

Author: Nasir Abbas Nayyar

Pages: 565 

 

س مجموعے کی  تحریریں  اردو زبا ن وادب کی کچھ  ویب گاہوں  کے لیے لکھی گئیں یا فیس بک کے لیے۔ویب گاہوں کی تحریروں میں ذرا سی طوالت ہے، فیس بک جس کی متحمل نہیں۔اب میں ویب گاہوں کے  بجائے راست اپنی فیس بک کی دیوار پر لکھتا ہوں۔ 
میں نے سوشل میڈیا پر کئی موضوعات پر لکھا ہے۔یہ سلسلہ 2016 سے باقاعدہ شروع کیا تھا۔ سماجی ، ادبی ، لسانی،عالمی ، قومی ، تاریخی ، ماحولیات ، مذہبی شدت پسندی جیسے مسائل پر۔ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے مصنف ہونے کا ایک مطلب ہے، اپنی تحریروں کو اپنے زمانے کا گواہ بنانا۔اس زمانے میں بھی مصنف ہونے کا یہ مطلب برقرار ہے۔ ان تحریروں کا ایک حصہ ، اسی گواہی پر مبنی ہے، تاہم میں نے  اس گواہی کو ایک ادیب کی گواہی ہی بنانے کی کوشش کی ہے۔ ادیب کی گواہی کیا ہے؟ سماج میں ہونے والی ہراس تبدیلی کو محسوس کرنا ،اس تبدیلی کی ماہیت، مقصد اور رخ کو سمجھنا، یہ جاننے کی کوشش کرناکہ وہ تبدیلی کس کی طاقت اور نفع میں اور   کس کے مصائب میں اضافہ کررہی ہے۔نیز مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان مصائب کے ذمہ داروں کی ملامت کرنا،تاہم ایک ایسے اسلوب میں جو چیختا ہوا نہ ہو۔اس اسلوب کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ آپ کو اپنی بات کہنے کا موقع ملتا رہے۔ تاہم ادیب اپنے زمانے کا گواہ ہونے کے علاوہ، انسانی ہستی  کے اسراراور تہذیب ِانسانی کے  حاصلات کا عارف اور محافظ بھی ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر لکھتے ہوئے میں نے مسلسل زبان ، ادب ، تاریخ ، فکر یات پر لکھنے کی دانستہ کوشش کی ہے۔ محض لمحہ حاضر کے واقعات پرلکھنے سے ، آپ انسان ، تاریخ ، تہذیب کو شکستہ اور تخفیف پر مبنی تصور کرتے ہیں۔ آدمی ،سماج ، تاریخ ، تہذیب کا سچ، ایک دن یا ایک عہد میں ظاہر نہیں ہوتا۔ لہٰذا میں نے کوشش کی کہ لمحہ حاضر پر مرتکز سوشل میڈیا پر ان ’خالص ادبی و فکری ولسانی ‘ مسائل پر لکھتا رہوں،جن کی حیثیت مستقل سوالات ومباحث کی ہے۔ وہ تحریریں بھی ا س کتاب کا حصہ ہیں۔ میں نے اپنی جملہ تحریروں میں ادب کو بہ ہر حال ’مرکز ‘ میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ صرف اسلوب میں نہیں،مسائل کی  حسیت اور محاکمے میں بھی۔
سوشل میڈیا پر ادبی تحریریں لکھنا اور شائع کرنا، ایک نیا تجربہ ہے۔ یہ اخبارات ورسائل میں اپنی تحریریں شائع کروانے سے بالکل مختلف ہے۔ پہلا فرق تو وقت کا ہے۔پہلے آپ لکھتے تھے۔ ای میل یا زمینی و ہوائی ڈاک سے اپنی تحریریں بھیجتے تھے۔ وہ کچھ دنوں ، ہفتوں اور بعض اوقات مہینوں بعد شائع ہوتی تھیں۔  آپ کے لیے انتظار معمول کی بات تھی۔ تحریر اور اس کی اشاعت میں وقفہ، آدمی میں صرف ٹھہراؤ، آرزو مندانہ انتظار کی اہلیت ہی پیدا نہیں کرتا تھا، خود اپنی تحریر سے ایک جذباتی فاصلے کو بھی جنم دیتا تھا۔ نیز اخبار اور رسالے میں تحریر ،ادارت کے بعد شائع ہوا کرتی تھی ۔ اخبار اور رسالے میں شائع ہونے والی تحریر کی ذمہ داری ،مصنف اور مدیر میں بٹ جایا کرتی تھی۔ چناں چہ مدیر آپ کی تحریر کا ہر ہر پہلو سے ناقدانہ جائزہ لینے، ضرورت پڑنے پر تبدیلی وترمیم کرنے یا تجویز کرنے کے بعد شائع کیا کرتا تھا۔ مصنف کی کسی کوتاہی کی تلافی کے لیے مدیر موجود ہوا کرتا تھا۔ سوشل میڈیا نے ایک تو تحریر سے مصنف کا جذباتی فاصلہ ختم کردیا ہے، دوسری طرف مدیر کا کردار ۔  نئے مصنفوں کو سوشل میڈیابہت لبھاتا ہے کہ ان کے لیے کسی تحریر کے مکمل ہونے کا لمحہ ہی اس کی اشاعت کا لمحہ ہے، اور اگلے ہی لمحے وہ پڑھا اور سراہا جانے بھی لگتا ہے،اور اس بات کی اہمیت باقی نہیں رہی کہ پڑھنے اور سراہنے والے   کون ہیں ،باذوق و صاحب فہم  ہیں یا نہیں۔ یہ چیز نئے لکھنے والوں کو بہ طور مصنف کتنا فائدہ پہنچاتی ہے، اس کا جائزہ لیے جانے کی ضرورت ہے۔ ایک بات بالکل واضح ہے، کوئی شخص مسلسل محنت وریاضت ، اپنے کام پر  نظرثانی ،   ادب کی روایت، پیش روؤں ، مستند سینئر معاصرین سے اکتساب اور خود اپنی روح میں غوطہ زن ہوئے بغیر ایک مصنف ہونے کا اعتبار حاصل نہیں کرسکتا۔ کوئی بھی صلاحیت پیدائشی ہوسکتی ہے، مگر اس کے اظہار میں جمال ،نفاست  اورزیرکی؛ اکتساب اور مشق سے آتی ہے۔ 
سوشل میڈیا کے لیے لکھی گئی تحریروں کو کتابی صورت میں لانے کا تجربہ بھی نیا ہے! اس کا نتیجہ اور اثر دیکھتے ہیں