Toprated

Customer's Reviews

Ali Raza

Great collection of academic and fiction books. Prices are reasonable, and the packaging was excellent. Will definitely shop again!

Ayesha Khan

This is the best online bookstore in Pakistan! The delivery was fast, and I found books that I couldn’t get anywhere else. Highly recommended!

Hamza Ahmed

I love how they stock both local and international authors. My order arrived on time, and the quality was perfect.

Bestseller

  • Qafila Hijaz by Naseem Hijazi

    Regular price Rs.3,900.00 PKR
    Sale price Rs.3,900.00 PKR Regular price Rs.4,495.00 PKR
    Sale Sold out
  • Poras kay Hathi

    Regular price Rs.1,099.00 PKR
    Sale price Rs.1,099.00 PKR Regular price Rs.1,299.00 PKR
    Sale Sold out
  • Insaan Aur Devta

    Regular price Rs.1,699.00 PKR
    Sale price Rs.1,699.00 PKR Regular price Rs.1,899.00 PKR
    Sale Sold out
  • Aur Talwar Toot Gai

    Regular price Rs.1,899.00 PKR
    Sale price Rs.1,899.00 PKR Regular price Rs.2,299.00 PKR
    Sale Sold out
  • Khaak aur Khoon

    Regular price Rs.1,900.00 PKR
    Sale price Rs.1,900.00 PKR Regular price Rs.2,400.00 PKR
    Sale Sold out
  • Tarikh-I Punjab Ma' Halat Shahr Lahore

    Regular price Rs.1,340.00 PKR
    Sale price Rs.1,340.00 PKR Regular price Rs.1,600.00 PKR
    Sale Sold out
Skip to product information
1 of 1

Sargoshiyan Iqbal ke Sath - Abdaal Bela

Regular price Rs.3,600.00 PKR
Sale price Rs.3,600.00 PKR Regular price Rs.4,000.00 PKR
Sale Sold out
  • Vendor:

    The Book House

Description

Author: Abdaal Bela

Pages: 619

ایک دن میرا قدیمی کلاس فیلو گہرا دوست پروفیسر ادریس فاروق بٹ میرے پاس آیا۔ اُس کا آنا ہمیشہ ہی میرے لیے خوشی کا باعث ہوتا۔ ہم دیر تک گزرے وقتوں کی باتیں کرتے رہتے۔ مگر اُس روز ادریس نے آنے والے وقت کی کنڈی ہلا دی۔ بولا میرا خواب سنو، خواب میرا لیکن پیغام اس میں تیرے لیے۔ میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ ادریس بولا خواب میں، مَیں اقبالؒ کی محفل میں جا نکلا۔ دیکھا ایک کمرہ ہے۔ لوگ اقبالؒ کی طرف رخ کیے زمین پر بچھی دری پہ بیٹھے ہیں۔ میں بھی اُس کمرے میں جاتا ہوں اور خاموشی سے بیٹھے لوگوں میں بیٹھ جاتا ہوں۔ سامنے اقبالؒ اپنی کرسی پہ حقے کی نَے پہ ہاتھ رکھے، ہاتھ پہ اپنا چہرہ ٹکائے بیٹھے کسی گہری سوچ میں ہیں۔ سوچتے سوچتے ایک لمحہ کو چہرہ اوپر اُٹھاتے ہیں۔ حقے کا ایک کش لیتے ہیں اور کہتے ہیں:

 ’’لوکی میری گل سمجھے نئیں‘‘

سامنے بیٹھے سب لوگ چپ۔ لیکن اقبالؒ کی یہ بات سن کے ادریس بول پڑتا۔ کہتا سرکار، اجازت ہو تو عرض کروں؟ اقبالؒ نگہ اٹھا کے ادریس کی طرف دیکھتے ہیں اور سر ہلا کے، کہنے کے اجازت دیتے ہیں۔ ادریس ،اقبالؒ کے حضور کہتا ہے۔ سر، آپ نے اپنی شاعری میں زبان ہی مشکل استعمال کی ہے۔ پھر جنہوں نے اُس کی تشریح کی کوشش کی اُنہوں نے اُسے اور مشکل بنا دیا۔ اقبالؒ تھوڑی دیر ادریس کی آنکھوں میں دیکھتے رہے پھر دھیرے سے بولے۔

فِیر تُو اپنے یار نُوں کہہ ناں!

 ادریس کہتا، اقبالؒ سے یہ سن کے مجھے تیرا خیال آیا اور خواب گزر گیا۔ ادریس سے اقبالؒ کا حکم سن کے میں سٹ پٹا گیا۔ اقبالؒ کی شاعری پہ کچھ لکھنا یا ان کی شاعری اپنے لفظوں میں بیان کرنا میرے لیے بہت بھاری پتھر کا اٹھانا تھا۔میں نہ شاعر ہوں نہ شاعری کے راز و رموز سے آگا ہ ہوں۔ اقبالؒ پہ لکھنے کی جسارت کیسے کرتا۔ پھر خیال آیا جب اقبالؒ نے خود میرے دوست کے خواب میں آ کر یہ حکم دیا ہے تو حکم کی تعمیل لازم ہے۔