Toprated

Customer's Reviews

Ali Raza

Great collection of academic and fiction books. Prices are reasonable, and the packaging was excellent. Will definitely shop again!

Ayesha Khan

This is the best online bookstore in Pakistan! The delivery was fast, and I found books that I couldn’t get anywhere else. Highly recommended!

Hamza Ahmed

I love how they stock both local and international authors. My order arrived on time, and the quality was perfect.

Bestseller

  • Qafila Hijaz by Naseem Hijazi

    Regular price Rs.3,900.00 PKR
    Sale price Rs.3,900.00 PKR Regular price Rs.4,495.00 PKR
    Sale Sold out
  • Poras kay Hathi

    Regular price Rs.1,099.00 PKR
    Sale price Rs.1,099.00 PKR Regular price Rs.1,299.00 PKR
    Sale Sold out
  • Insaan Aur Devta

    Regular price Rs.1,699.00 PKR
    Sale price Rs.1,699.00 PKR Regular price Rs.1,899.00 PKR
    Sale Sold out
  • Aur Talwar Toot Gai

    Regular price Rs.1,899.00 PKR
    Sale price Rs.1,899.00 PKR Regular price Rs.2,299.00 PKR
    Sale Sold out
  • Khaak aur Khoon

    Regular price Rs.1,900.00 PKR
    Sale price Rs.1,900.00 PKR Regular price Rs.2,400.00 PKR
    Sale Sold out
  • Tarikh-I Punjab Ma' Halat Shahr Lahore

    Regular price Rs.1,340.00 PKR
    Sale price Rs.1,340.00 PKR Regular price Rs.1,600.00 PKR
    Sale Sold out
Skip to product information
1 of 1

Zameen Zaad Ki Wapsi - Mukhtar Paras

Regular price Rs.2,600.00 PKR
Sale price Rs.2,600.00 PKR Regular price Rs.3,000.00 PKR
Sale Sold out
  • Vendor:

    The Book House

Description

Author: Mukhtar Paras

 Pages:434

مختار پارس شاہ بیوروکریٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ، وسیع المطالعہ ادیب بھی ہیں۔ عالمی ادب ، ان کے مطالعے کا خصوصی میدان ہے۔ اس مطالعے کا ثمر ہے کہ انھوں نے ممتاز انگریزی ناول نگار ٹامس ہارڈی کے ناول

The Return of the Native

 کا ترجمہ ” زمیں زاد کی واپسی “ کے عنوان سے کیا ہے۔ ٹامس ہارڈی ، وکٹورین عہد کے سب سے معتبر ناول نگار ہیں۔ انھوں نے اپنے ناولوں کے لیے، جنوب مغربی انگلستان کے ایک دیہی علاقے کو اپنا افسانوی خطہ بنایا ، جسے ویسیکس کا نام دیا۔ انھوں نے حقیقی اور افسانوی فطرت کا ایک امتزاج تخلیق کیا۔ ” زمیں زاد کی واپسی “ کی کہانی بھی اسی تخیلی خطے میں رونما ہوتی ہے، جہاں کہانی کا زمین زاد ( نیٹو) کلیم یو برائیٹ ، پیرس میں ہیروں کے ایک کامیاب تاجر کی زندگی ترک کر کے، سکول کے استاد کے طور پر نئی زندگی شروع کرنے آتا ہے۔ ہارڈی کے اکثر ناولوں میں ، تقدیر ، ان کے کرداروں کو المیوں سے دوچار کرتی ہے۔ تاہم وہ تقدیر کے پہلو بہ پہلو، وکٹوریائی معاشرے پر تنقید بھی کرتے ہیں ۔ آج جب کہ دنیا ماحولیاتی بربادی سے دوچار ہے، ٹامس ہارڈی کے ناولوں کا مطالعہ ، ہمیں فطرت سے متعلق ایک نئی بصیرت مہیا کر سکتا ہے۔ ٹامس ہارڈی کے ناولوں کا ترجمہ آسان نہیں ہے۔ انیسویں صدی کے انگلستانی فکشن نگاروں کی زبان، آج کی انگریزی سے کافی مختلف ہے، نیز کرداروں اور مقامات کے نام بھی خاصے اجنبی ہیں۔ مختار پارس نے شاید اسی لیے ، یہ ناول ترجمہ کرتے ہوئے، اس کے کرداروں اور مقامات کے نام بدل کر مقامی بنادیے ہیں۔ تاہم باقی پورے متن میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ انھیں انگریزی اور اردو دونوں پر ماہرانہ اور تخلیقی دست رس حاصل ہے۔ ان کا یہ خیال ہے کہ چوں کہ ترجمہ اردو قارئین کے لیے کیا جا رہا ہے، اس لیے، اس کی فضا اردو قاری کے لیے مانوس ہونی چاہیے۔ اس ترجمے کی مانوسیت اور روانی قاری کو متاثر کرتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ قارئین ، مختار پارس کے اس ترجمے کو نہ صرف سراہیں گے ، بلکہ میں توقع رکھتا ہوں کہ مختار پارس ترجمہ و تصنیف کا یہ لائق رشک عمل جاری رکھیں گے۔

 افضال احمد